جذبہ وفا کا سینہ فگاروں میں دیکھنا

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

جذبہ وفا کا سینہ فگاروں میں دیکھنا
منظر شکستگی کا بہاروں میں دیکھنا

ہر بات ان کی خاص اشاروں میں دیکھنا
دھوکا انھی حسین نظاروں میں دیکھنا

کھانا نہ ان چمکتے ہوئے چہروں کا فریب
ہے تیرگی بھی چاند ستاروں میں دیکھنا

اپنا تو اٹھ گیا ہے بھروسہ جہان سے
کیا چین کھوکھلے سے سہاروں میں دیکھنا

سب کو یقیں ہوا ہے نجومی کی بات پر
ہر شے کا اب علاج ستاروں میں دیکھنا

زاہد کا فلسفہ ہے عجب، پارسائی پر
داغ جبیں کو سجدہ گزاروں میں دیکھنا

نایاب ہو گیا ہے زمیں پر وفا کا سیپ
رومی ! سمندروں کے کناروں میں دیکھنا

اب بزم سے اٹھا تو رہے ہو مگر، کوئی
رومی نہ مل سکے گا ہزاروں میں، دیکھنا

Rate it:
Views: 401
19 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL