وحشی
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab --Pakistan) بھتہ خوری، دہشت گردی تھا اس کا منشور
انسانیت کی تذلیل، تضحیک اور بے توقیری
سب وحشی کا دستور
گل کی صباحت روندی اس نے، کرن ہوئی پامال
چام کے دام چلائے اس نے، کچھ نہ کیا خیال
خلقت تھی بے حال
سادیت کا مرض تھا اس کو
تھا متفنی مغرور، عقل و خرد سے دور
وہ ذہنی معذور
اس کے کوہ ستم کے نیچے، بے بس تھے مقہور
جبر کے کوہ پیکر پاٹوں میں پس گئی سب مخلوق
اک لنگور نے تھام رکھی تھی ہاتھوں میں بندوق
سانپ تلے کے اس بچھو نے غارت کی امید
محنت کی تاراج
مجبوروں سے صبح ومسا لیتا تھا باراج
نافذ تھا تریا راج
ظلم کو سہنا، کچھ نہ کہنا
جبر اور حبس کے عالم میں ہر لمحہ
پرنم آنکھیں رہتی تھیں
ذرا بھی ترس نہ آیا اس کو
ہم کتنے تھے مجبور
ظالم تھا نشے میں چور
اس کو بس ایک طلب تھی
مل جائے کوئی حور
راجہ اندر بن بیٹھا تھا
پریاں تھیں چاروں اور
جنسی جنون کے باعث اس کے
جذبے تھے منہ زور
اپنی خون آشامی کی کیا دیتا وہ دلیل
سفہا کی اولاد تھا موذی، شقی اور بخیل
اس متفنی کے شر سے بچنا بہت محال
سارے ساتا روہن اس کے
تھے اجلاف اور ارزال
درخشاں قدریں اور روایتیں، سب کی سب پامال
اخلاقی اقدار کا ان کو ذرا نہ آیا خیال
ذلت اور تخریب کے کتبے سب اس سے منسوب
جنگل کے قانون کی آخر کرتے کیا تاویل
خلقت تھی رنجور
بے بس اور مجبور
حرفِ دعا تھا سب کے لب پر
یارب کر تعجیل
آجائے اب اس دھرتی پر
حضرت اسرافیل
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






