جزیرہ
Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quettaمحبت اک جزیرہ ہے
جو نفرت کی تلاطم خیز موجوں سے
نمو تشکیل پاتا ہے
سحر ہونے سے پہلے تک
جزیرہ عشق میں ڈوبی ہوئی
روحوں کے مسکن کا نمونہ پیش کرتا ہے
محبت کے جزیرے سے
سر بام فلک ، نورکی تقریب
میں شامل جو
ارواح مقدس رقص کرتی ہیں
یہ ہی روحیں
بقائے باہمی کے درس کا پرچار کرتی ہیں
محبت وہ جزیرہ ہے
جسے تسخیر کرنا ہوتو لازم ہے
کہ اپنی ہار کا اعلان
اسے تعمیر کرنا ہوتو جس سے عشق کرتے ہو
اسے اپنے جمال_ آبرو کے عکس میں تبدیل کر ڈالو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






