جس انسان کو انسان سے۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamجس انسان کو کسی سے پیار نہیں ہوتا
دنیا میں اس کا کوئی غمخوار نہیں ہوتا
جو اپنی ہی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں
ایسے لوگوں کا کوئی یار نہیں ہوتا
ہم اس کی حسیں صورت کے غلام ہو گے
وہ کہتی ہے غلاموں کا اب کاروبار نہیں ہوتا
کئی سالوں سے چلا رہا ہوں نظروں کہ تیر
مگر ایک بھی کسی من کے پار نہیں ہوتا
جو ہر کسی سے نفرت کرتے پھرے
ایسے کم ظرف کا کوئی یار نہیں ہوتا
جو اپنے آپ سے دوستی کر لے
وہ کسی معشوق کہ ہاتھوں خوار نہیں ہوتا
ایسے ڈرے ہیں محبت کی دنیا سے ہم اصغر
اب کسی کے عشق میں دل گرفتار نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






