جس سخنور پہ اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamجس سخنور پہ اچھی شاعری کا نزول نہیں ہوتا
ایسا شاعر عوام میں کبھی مقبول نہیں ہوتا
جس کے ساتھ ماں باپ کی دعائیں ہوں
وہ انسان کسی کے پاؤں کی دھول نہیں ہوتا
دودھ پلانے والے ہاتھوں کو ناگ نہ ڈسیں
دور حاضر میں ایسا حسب معمول نہیں ہوتا
ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہوتے ہیں
جن کا ذہن اچھے کاموں کی جانب مبذول نہیں ہوتا
الله کے سوا کسی اور سے میں کچھ نہیں مانگتا
وہ بڑا بدنصیب ہے جو عبادت میں مشغول نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






