جس سے بچھڑنے کا مجھے خدشہ تھا باقر

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

جس سے بچھڑنے کا مجھے خدشہ تھا باقر
آخر ہو گیا مجھ سے وہی جدا باقر

مجھ کو چھوڑ کے تو نے بہادری کی لیکن
تب مانوں گا مجھ کو بھول دکھا باقر

حسن پرستی کہیں نا تجھ کو لے ڈوبے
اپنی آنکھ میں پیدا کرو حیا باقر

بھرے شہر میں اک روٹی نا اسے ملی
ساری رات جو دیتا رہا صدا باقر

عشق کیا تھا جو مٹی کے پتلے سے
ملی ہے جس کی مجھ کو کڑی سزا باقر

سبق دیا ہے مجھ کو یہی محبت نے
دل نہ بیٹھنا کسی سے کبھی لگا باقر

ہجر کا روگ جگر نازک کو لگ جانا
شاید کسی بزرگ کی ہے بدعا باقر

باقر تیرے بعد بھی کسی کا ہو نا سکا
تیرا تھا اور تیرا سدا رہا باقر

Rate it:
Views: 414
30 Mar, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL