جس کے نام میری ہر سانس ہوئی
Poet: Tahir Shah By: Tahir Shah ( London), Londonانہوں نے کیے ظلم اتنے مجھ پر
جیسے ظلموں کی برسات ہوئی
ناکام رہے میرے دل سے اسے نکالنے میں
جیس کی چاہت میں میرا ہر دن ہوا اور ہر رات ہوئی
کھائی ہے قسم اسے کبھی نہ بھول پانے کی
ہماری پہلی اور آخری بس یہی بات ہوئی
ملاقاتوں کے بغیر بھی محبت بڑھتی رہی
ہو گیا میرا دل ان کے نام اور ہر سانس ہوئی
ظلم شدت سے بھی کبھی نہ گبھرایا تو اے طاہر
بنا اس کے لگا، جیسے دشمن ساری کائنات ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






