جسکی گمنام لہریں بھی طوفان سے کم ہوتی نہیں
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eعشق کی آگ کچھ ایسی ہوتی ہے
جو کسی بھی پانی سے بجھتی ہی نہیں
دیدار یار ہو جائے تو دل مطمن
ورنہ آنکھوں میں نیند روکتی ہی نہیں
آنسوؤں کا سیلاب سا جاری رہتا ہے
بدلی کی ماند جو برستے تھکتی ہی نہیں
ہر کس کا اپنا اپنا اندازعشق دوستوں
پر کہانی کسی کی بھی بدلتی ہی نہیں
اور کیا بتاؤں کیا ہے یہ عشق
ایسی داستاں جو لفظوں میں سمٹی ہی نہیں
عشق تو اک ایسا سمندر ہے روشنی
جسکی گمنام لہریں بھی طوفان سے کم ہوتی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






