جل جائے نہ میرا یہ نگر آگ لگی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادرپیش ہے پھر مجھ کو سفر آگ لگی ہے
جل جائے نہ میرا یہ نگر آگ لگی ہے
تنہائی کےصحراؤں میں جل جاؤں نہ تنہا
آجاؤ کہ پھر بارِدگر آگ لگی ہے
ممکن ہی نہیں اب تو کسی اور سے شکوہ
جب اپنی تمناؤں کے گھر آگ لگی ہے
اس بار بھی ہے میرا سخن اس کا نشانہ
الفاظ میں پھر زیروزبر آگ لگی ہے
اک شعلہ ہے حسرت ہے تری یاد کا بادل
برسات ہے یادوں کی مگر آگ لگی ہے
ہوجائے نہ اس بار خزاں میرا مقدر
مغموم ہیں سب برگ وشجر آگ لگی ہے
اے کاش کہ بجھ جائے یہاں شام سے پہلے
جزبات پہ بکھری ہے سحر، آگ لگی ہے
بیٹھی ہوں خیالات کی جس سیج پہ وشمہ
یخ بستہ ہواؤں کا نگر آگ لگی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






