جل چُکے خوابوں کی راک گرم ہے ابھی
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaجل چُکے خوابوں کی راک گرم ہے ابھی
پھتر دل مرا کچھ نرم ہے ابھی
دل توڑ کے وہ سامنے نہیں آتے
لگتا ہے کہ باقی اُس میں شرم ہے ابھی
جب توٹے گے تو خودی لوٹ آئوں گا
اُس کے لوٹنے کے دل میں برہم ہے ابھی
تجھ سے کہتا ہوں راہِ عشق پے نہ چل
تُو نادان ہے تُو کم سن ہے ابھی
اُسے بُھلانا مشکل بہت ہے یارا
کیونکہ جوان اُس کے دیئے زخم ہے ابھی
ہر خواب پلکوں میں ہی بہہ جاتا ہے
ہجر کے فراق کے پلکوں میں نم ہے ابھی
اُس سے کہو اور دے دردِ محبت مجھے
مرے پاس اُس کی یادیں کم ہے ابھی
گستاخیاں غلطیاں اکثر کر جاتے ہیں
معشوم و نادان مرے صنم ہے ابھی
کرو پھر سے مجھ پے جان لیوا وار
کچھ ترے عاشق میں دم ہے ابھی
میں کیونکر ترے فراق سے گبھرائوں
کہ وصل کا مجھ میں برہم ہے ابھی
نہال ترے انتظار سے رشتہ کیسے توڑوں
جان باقی ہے کُھلی شوقِ چشم ہے ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






