جلا دیں میں نے تصویریں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadجلا دیں میں نے تصویریں خط سارے جلا ڈالے
لکھے تھے جو دیواروں پہ نام سارے مٹا ڈالے
نادانی کی چاہت نے کوئی تو رنگ دیکھا نا تھا
پرانی اُس نے چاہت کو نئے کپڑے پہنا ڈالے
اسے چاہنا جرم میرا، ہجر اسکا سزا میری
وفا کی اُس نے راہوں پہ کیا کانٹے بچھا ڈالے
ملا ہم سے تو وہ ایسے کوئی انجان یو جیسے
پرانی اس نے قبروں پہ نئے کتبے سجا ڈالے
کیوں چپ تھا مدت سے درد اتنا کیوں سہتا تھا
ایک پل میں ہی ساجد اب غم سارے سنا ڈالے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






