جلا کے تتلیوں کے پر کیوں شاہکار بانٹتے ھو

Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobar KSA

رھ کے پھولوں کے درمیاں کیوں خار بانٹتے ھو
عجیب شخص ھو خزاں میں خمار بانٹتے ھو

نیلام کر کے خواہشوں کو در بدر ہی رھے
یہ سودا پیار کا ھے کیوں ادھار بانٹتے ھو

رکھو سنمبھال کے اپنی انا کے سب رشتے
ھے اگر خود پے یقین تو کیوں اعتبار بانٹتے ھو

تیری گلی کا ہر کونا بھی تو اداس لگتا ھے
جلا کے سارے شہر کو کیوں مہکار بانٹتے ھو

ھر اک زخم پہ مرھم رکھو تو ھم جانیں
مسیحا کیسے ھو دکھ بے شمار بانٹتے ھو

اجڑے کینوس پہ اب رنگوں سے یہ رشتہ کیسا
جلا کے تیتلیوں کے پر کیوں شاہکار بانٹتے ھو

Rate it:
Views: 1447
02 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL