جلاۓ تھے چراغ ہم نے ان کی آمد پر

Poet: AB By: Zaid, Abbottabad

جلاۓ تھے چراغ ہم نے ان کی آمد پر
کہاں خبرتھی کہ ھوا بجھا جاۓ گی

مجھ کو اس لٸیے بھی اندھیروں سے خوف آتاھے
تاریکی آٸے گی تو وحشت بھی ساتھ لاۓ گی

میں خاموشیوں کی چادر یوں اوڑھے رکھتی ھوں
کہ بات نکلے گی تو فر افسانہ بنا جاۓ گی

اب اس لٸے بھی نہیں بھاتے سرد موسم مجھ کو
دھند جو چھاۓ گی تو تصویر تیری نظر نہ آۓ گی

اسکودیکھا تھا کل ہنستاھوا سرِ راہ میں نے
میں تو سمجھی تھی کہ اسے جداٸی بہت رلاۓ گی

تعلق توڑ کےوہ ایسے بھول گیا مجھ کو
کہ میری یاد بھی اب اسکونہیں آۓ گی

بے سبب ہی اس نے کہہ دیا بچھڑنے کا
کہاں خبر تھی جان پل میں نکل جاۓ گی

میری آواز کوترسے گی سماعت تیری
عمر بھر تجھ کو میری کال نہیں آۓ گی

Rate it:
Views: 742
23 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL