جلوہء یزداں
Poet: UA By: UA, Lahoreحقیقت سے گمان کے ہر ایک رنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
زمینوں آسمانوں میں زمانوں میں مکانوں میں
کہساروں میں چٹانوں میں چٹیل میدانوں میں
برفاب وادیوں میں گھونسلوں آشیانوں میں
شمع کے گرد منڈلاتے جلتے پروانوں میں
بجلیوں میں شراروں میں آتشیں خاکدانوں میں
قلندروں کے دھمالوں میں جبینوں آستانوں میں
داناؤں کی مستی میں نادانوں میں دیوانوں میں
قدرت کے اشارے ہیں شاعروں کے دیوانوں میں
رات کے اندھیروں میں سحر کے نظاروں میں
صبح اور شام کے مدھم سفید و سرخ دھاروں میں
موسموں کے تغیر میں خزاؤں میں بہار میں
پرندوں کی چہکار میں پھولوں کی مہکار میں
اسی کا پرتو سر میں ساز میں رنگ بدلتےانداز میں
صرصراتی ہواؤں کی بہتے جھرنوں کی آواز میں
اسکا جلوہ سر ساز میں آوزا و آہنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گمان کے ہر ایک رنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
کڑکتی بجلیوں کے شور میں بارش کی بوندوں میں
ہر اک پتے ہر اک ذرے ہر اک قطرے میں شامل ہے
اسی کی ذات کا جلوہ مکاں سے لا مکانی تک
گھٹاؤں کی جوانی میں بدلیوں کی روانی میں
ازل کے ابتدائی قصے سے ابدی کہانی میں
نور میں نار میں صحرا، بحر و شجر میں
خاک کے ذرے ذرے میں ہر ایک لہر میں
برگ میں بار میں ہر ایک سنگ میں ڈھلا ہے
اللہ ھو کی مستی کا کرشمہ رنگ لایا ہے
رخ انور پہ ھو کے نور کی کرنوں کا سایا ہے
جذب و مستی کا رنگ ایک ایک انگ میں ڈھلا ہے
ذکر یزداں قلب و جان ،روح کی ترنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گمان کے ہر ایک رنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






