جلی شمع باب مہ خانہ کھولنے والا ہے
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaجلی شمع باب مہ خانہ کھولنے والا ہے
نشہ ایسا چھایہ کہ دل کا دریچہ خانہ کھولنے والا ہے
شہر شہر ہوئے چرچے میرے گناہوں کے
ڈر نہیں جو اک اور افسانہ کھولنے والا ہے
وہ جو بیباک ہوئے سامنے ان کے توبہ
لگ رہا ہے کہ راز برسوں پرانا کھولنے والا ہے
زنجیر کو دیکھا سم کے کچھ بولیے وہ
روک لو ایسے وحشی دیوتا کھیلنے والا ہے
طلسم ہوا تیری پری ذادی اداؤں کا
جو جلی شمع وہاں اک اور پروانا کھیلنے والا ہے
ملی عقل مٹی میں اور سمجھداری ریت میں جا کے ملی
خدایا روک لو ان کو نظروں کا نشانہ کھولنے والا ہے
بیگانوں کی طرح گزرے بادلوں کی طرح آئے امڈ کے لوگ
لگ رہا ہے سامنے قلزم ان کے زمانہ کھولنے والا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







