جلے جب شمع محفل میں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukتُو میری سوچ کی مانند تصور میں جھلکتا ہے
خیالوں کے اُفق پہ چاند کا پیکر چمکتا ہے
میرا ہی نام جب آتا ہے تیری داستانوں میں ہم
عجب انداز سے پہلو میں میرا دل دھڑکتا ہے
ہمارے صبر کو وہ آزما کے سوچتا ہو گا
کوئی لبریز پیمانہ نہ جانے کب چھلکتا ہے
ہمیں قاتل ہمیں مجرم ہمیں ٹھہرے ستم گر بھی
مگر حیران ہیں ہم خود کو وہ معصوم کہتا ہے
وفا کی راہ میں مٹ کر وہ کہتا ہے سر محفل
جلے جب شمع محفل میں تو پروانہ بھی جلتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






