جلے پر نمک
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas زخم دے کر پھر مسکراتا کیوں ھے
وہ جلے پر نمک چھڑکاتا کیوں ھے
صاف کر دے انکار اگر آتا نہیں
ہر روز نئے بہانے بناتا کیوں ھے
دل نہیں دیتا چلو اس کی مرضی
مگر دھونس کوئی ہمپر جماتا کیوں ھے
جان سے چلے جانے کا ہم کو غم نہیں
مگر کوئی بتلائے ایسا چاھتا کیوں ھے
شب و روز کاٹے ہیں غم ہجراں میں
اب کوئی تنہائی سے ہمیں ڈراتا کیوں ھے
چلا آئے اسی موڑ پر جہاں بچھڑا تھا
جا بجا کوئی ہمیں دہونڈہتا کیوں ھے
اگر نہیں پیار تو خود سے آکر کہہ دے
غیر کے ہاتھ پیغام بھجواتا کیوں ھے
پہلے سے دل جلے ہیں کسی کے عشق میں
عدو سے گلے مل کر اور جلاتا کیوں ھے
ہاں ہمیں یقین ھے اسد اس کی بات پر
بارہا وہ یار قسمیں کھاتا کیوں ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






