جن کی باتوں میں ہوتی نہیں سچ کی خوشبو
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamجن کی باتوں میں ہوتی نہیں سچ کی خوشبو
کوئی نہیں سنتا ایسےجھوٹے لوگوں کی گفتگو
جواپنےسوا دوسروں کو سمجھتےہیں بدھو
ایک دن انہی کہ ہاتھوں وہ بن جاتے ہیں الو
سردیوں کی طویل راتوں میں جاگ جاگ کر
صبح سردی کہ مارے انہیں ہو جاتا ہے فلو
پھر ان کی صرف اتنی سی ہوتی ہےآرزو
اے کاش کہیں سے مل جائے کوئی ٹشو
میری شاعری کا اپنا ایک منفرد انداز ہے
میں اپنے منہ کبھی بنتا نہیں میاں مٹھو
تم کیا جانو میں کتنا فراخ دل ہوں میاں
جو انگلی پکڑے اسےتھمادیتاہوں بازو
تیری باتوں پہ غصہ نہیں رحم آتا ہے
کہ شہرت کی خاطرکتناگرسکتاہےتو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






