جنت میں کوئی گھر بھی بنایا نہیں ہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجنت میں کوئی گھر بھی بنایا نہیں ہوتا
گر ہم پہ بھی رحمت کا یہ سایہ نہیں ہوتا
گر ہم کو نگاہوں کے سمندر سے پلاتے
دریا میں بھی دل آج یوں پیاسا نہیں ہوتا
اس عشقِ نشانی کو کئی بار میں پڑھتی
خط میری وفاؤں کا جلایا نہیں ہوتا
یوں آگ لگانا بھی تو اپنوں کا کرم ہے
حالات کا کوئی بھی ستایا نہیں ہوتا
ہاں ہوتا ہے ایسا بھی کہ کھانے کو نہیں ہے
اور رہنے کو گھر میں بھی کرایہ نہیں ہوتا
رہتا ہے تبسم بھی کڑی دھوپ میں لب پر
جب شکوہ کوئی لب پہ وہ لایا نہیں ہوتا
کچھ لوگ سدا مجھ سے خفا رہتے ہیں وشمہ
دیدارِ محبت بھی کرایا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






