جنہیں تیرا نقش قدم ملا

Poet: .. By: Sumera Ataria, GUDDU

جنہیں تیرا نقش قدم ملا ، وہ غم جہاں سے نکل گئے
یہ میرے حضور کا فیض ہے کہ بھٹک کہ ہم جو سنبھل گئے

ہو تیرے کرم کا جواب کیا ، تیری رحمتوں کا حساب کیا
تیرے نام نامی سے غم کدوں میں چراغ خوشیوں کے جل گئے

تو ہی کائنات کا راز ہے ، تیرا عشق میری نماز ہے
تیرے در کے سجدے میرے نبی میری زندگی کو بدل گئے


تو مصوری کا کمال ہے تو خدا کا حسن خیال ہے
جنہیں تیرا جلوہ عطا ہوا وہ تیرے جمال میں ڈھل گئے

تھے ہزار صدیوں کے فاصلے جو رسول پاک نے طے کئے
وہ تو ایک رات کی بات تھی کہ زمانے جس میں بدل گئے

یہ حلیمہ تجھ کو خبر نہ تھی کہ وہی زمانے کے تھے نبی
وہ خدا کے کتنے قریب تھے ، تیری گود میں جو بہل گئے
 

Rate it:
Views: 704
08 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL