جنہیں خوابوں سے پہرے باغی دیکھے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجنہیں خوابوں سے پہرے باغی دیکھے
اُس رات کے سویرے باغی دیکھے
نیتیں بھی جیسے نانگن تھی سبھی
میں نے کئی سپیرے باغی دیکھے
وہ تو نبھانے کی مشکل میں رہہ گیا
جس نے وعدے تیرے باغی دیکھے
کس رنجش نے پھر ساتھ بکھیر دیا
کہ تیرے شہر میں ڈیرے باغی دیکھے
اُداسیوں پہ بھی مسکان سجتی رہی
ویسے تو چہروں کے چہرے باغی دیکھے
کوئی پھولوں کے ساتھ کانٹے بو گیا
کہ بھنوروں کے بھیرے باغی دیکھے
میں وہی ہوں، مگر وہ نہیں سنتوشؔ
کہ کچھ خیال بھی میرے باغی دیکھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






