جنہیں زمانے میں ہر سُو خراب لکھتے ہیں
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaجنہیں زمانے میں ہر سُو خراب لکھتے ہیں
بڑے وثوق سے تم کو آداب لکھتے ہیں
ترے بنا جو کٹی رات وہ اذیت ہے
ترے بنا جو کٹا دن عذاب لکھتے ہیں
کبھی ذہن میں جو آئی ہے بات جلووں کی
تری تجلی کو ہم آفتاب لکھتے ہیں
جو ذکر مستی کا آ جائے ان خیالوں میں
تری نگاہ کو جامِ شراب لکھتے ہیں
ہمارے لفظوں میں خوشبو سی پھیل جاتی ہے
تمہارے جسم کو جب بھی گلاب لکھتے ہیں
وہ جس ٹوٹنے کا آج تک ہے پچھتاوا
تمہاری چاہ کو دلکش سا خواب لکھتے ہیں
پرانے زخموں سے ہوتا ہے پھر لہو جاری
غمِ حیات کی جب بھی کتاب لکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






