جو آنکھ پرنم ناں ھو وہ بے وفا ھوئی
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahجس آنکھ میں نمی ناں ھو وہ بے وفاء ھوئی
میرا جرم تو کچھ نہیں تھا پھر کیوں سزا ھوئی
بہکے ھوئے وہ لمحے ہیں اب زندگی پہ بوجھ
ٹکڑوں میں بٹ رھا ھوں یہ کیسی خطاء ھوئی
صحرا کی تپتی ریت پر سمٹؤں تو کس طرح
جلتے ھوئے بدن پہ وہ آگ میری ھمنؤا ھوئی
دھکتے ھوئے لبوں پہ تھی زندگی کی بھیک
پھر وہ زکات میری سانسوں کی کیسی ادا ھوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






