جو بَھری بَزم میں اوروں سے جُدا لگتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiجو بَھری بَزم میں اوروں سے جُدا لگتا ہے
اچھا لگتا ہے مگر اہلِ جَفا لگتا ہے
اُس کی ہو جاۓ فقیروں پہ اگر نظرِ کرم
موسمِ دِل کا ہَر اِک پیڑ ہَرا لگتا ہے
کیسے دے گا تُو زمانے کے سوالوں کے جواب
تُو کبھی سوچ اے دِل تیرا وہ کیا لگتا ہے
کوئ بھاۓ نہ تُجھے تو ہے تری آنکھ میں نَقص
آنکھ بہتر ہو تو سب کُچھ ہی بَھلا لگتا ہے
کوئ کیونکر میری کُٹیا کو جَلاۓ گا بَھلا
مُجھے دُشمن میرا اپنا ہی دِیا لگتا ہے
اِس زمانے میں محبت بھی گُناہ ہے شاید
یہ جو سارا ہی جہاں مُجھ سے خَفا لگتا ہے
کیسے کرتے ہیں وہ محبُوب کا شِکوہ باقرؔ
میں تو اِک لفظ بھی بولُوں تو بُرا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






