جو بھٹکے ہیں تو وحشت کیا، یہ رونا عمر بھر کا ہے
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreکریں کس سے شکایت کیا ، یہ رونا عمر بھر کا ہے
جو سچ پوچھو محبت کیا، یہ رونا عمر بھر کا ہے
ہمیں ادراک گر ہوتا سرابوں میں بھٹکتے کیوں
جو بھٹکے ہیں تو وحشت کیا، یہ رونا عمر بھر کا ہے
فقط اک پل کی لغزش نے زمیں پر ہم کو دے مارا
کریں اب یاد جنّت کیا، یہ رونا عمر بھر کا ہے
نظر کی ایک چنگاری مرے خرمن کو لے ڈوبی
ہوئے جب راکھ حسرت کیا، یہ رونا عمر بھر کا ہے
مرے چہرے پہ رونق تھی تری قربت کا صدقہ تھا
تری فرقت کی دولت کیا ، یہ رونا عمر بھر کا ہے
ہر اک لمحہ کمی تیری بسر ہو زندگی کیسے
کریں تشریحِ فرقت کیا یہ رونا عمر بھر کا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






