جو جبر کی فصل بو رہے ہیں، کبھی تو اُن کا حساب ہوگا
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiخموش کب تک زُباں رہے گی؟ ہر ایک ظُلم کا جواب ہوگا
جو جبر کی فصل بو رہے ہیں، کبھی تو اُن کا حساب ہوگا
سمجھ رہے ہیں جو ہیں سیانے، کیوں روزِ محشر کو بھُول بیٹھے؟
میزانِ عدل جب ہو گی قائم، ہر ایک کا احتساب ہوگا
نفرتوں کی فصیل اُٹھا کر، لِسانیات کے خار رکھنا
لَہو کا سودا، عدُو سے کرنا، درندگی کا ہی باب ہوگا
دستار و منبر تو ہیں امانت، اتحادِ ملت ہی کی ضمانت
فسادِ اُمت کی گر ہو نیت، خُدا کا نازل عذاب ہوگا
فزوں ہے سب سے خُدا کی رحمت، اسی لئے ہے بنائی جنت
مکینِ جنت وہی تو ہوگا، بے داغ جس کا شباب ہوگا
گُناہ گاروں پہ یہ کَرَم ہےکہ آنکھ جو شرمندگی سے نَم ہے
گُناہ اُس پر نہ ہوگا باقی، نہ رب کا کوئی عتاب ہوگا
یہ اہلِ سیاست کا کیا چلن ہے، کہ اپنے ہاتھوں لَہو ہے اپنا
ہو بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خُوں، ابلیس کا پورا خواب ہوگا
یہ مانا میں نے کہ اِس وطن میں، تعصب کی داستاں ہے ہر جا
مگر مجھے ہے یقین سرور، کبھی تو ختم اِس کا باب ہوگا
(قارئینِ کرام، حالاتِ حاضرہ نے مُجھے صرف مِزاح لکھنے کے خیال سے عارضی طور پر دستبردار کیا ہے ورنہ میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ دُنیا میں اس قدر دُکھ تکالیف ہیں کہ مُسکان بانٹنے کا عمل زیادہ ضروری ہے)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






