جو جبر کی فصل بو رہے ہیں، کبھی تو اُن کا حساب ہوگا
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiخموش کب تک زُباں رہے گی؟ ہر ایک ظُلم کا جواب ہوگا
جو جبر کی فصل بو رہے ہیں، کبھی تو اُن کا حساب ہوگا
سمجھ رہے ہیں جو ہیں سیانے، کیوں روزِ محشر کو بھُول بیٹھے؟
میزانِ عدل جب ہو گی قائم، ہر ایک کا احتساب ہوگا
نفرتوں کی فصیل اُٹھا کر، لِسانیات کے خار رکھنا
لَہو کا سودا، عدُو سے کرنا، درندگی کا ہی باب ہوگا
دستار و منبر تو ہیں امانت، اتحادِ ملت ہی کی ضمانت
فسادِ اُمت کی گر ہو نیت، خُدا کا نازل عذاب ہوگا
فزوں ہے سب سے خُدا کی رحمت، اسی لئے ہے بنائی جنت
مکینِ جنت وہی تو ہوگا، بے داغ جس کا شباب ہوگا
گُناہ گاروں پہ یہ کَرَم ہےکہ آنکھ جو شرمندگی سے نَم ہے
گُناہ اُس پر نہ ہوگا باقی، نہ رب کا کوئی عتاب ہوگا
یہ اہلِ سیاست کا کیا چلن ہے، کہ اپنے ہاتھوں لَہو ہے اپنا
ہو بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خُوں، ابلیس کا پورا خواب ہوگا
یہ مانا میں نے کہ اِس وطن میں، تعصب کی داستاں ہے ہر جا
مگر مجھے ہے یقین سرور، کبھی تو ختم اِس کا باب ہوگا
(قارئینِ کرام، حالاتِ حاضرہ نے مُجھے صرف مِزاح لکھنے کے خیال سے عارضی طور پر دستبردار کیا ہے ورنہ میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ دُنیا میں اس قدر دُکھ تکالیف ہیں کہ مُسکان بانٹنے کا عمل زیادہ ضروری ہے)
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






