جو خواب آنکھ نے دیکھا وہ اس زمیں کا نہ تھا
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreجنوں تھا عشق تھا تجھ سے بڑی محبت تھی
جو شاعری میں لکھی جائے ایسی چاہت تھی
تجھے گنوا دیا حالات کا ستم کہیے
کہ اپنے بیچ میں بس دو قدم مسافت تھی
جو خواب آنکھ نے دیکھا وہ اس زمیں کا نہ تھا
کہ ایسے خواب کی تعبیر تھی تو جنت تھی!
تو کائنات کی وسعت میں رہ گیا تنہا
کہ تیری جیب میں دولت نہ تھی محبت تھی
کسی کے ساتھ میں چلتا تو کس طرح چلتا
کہ پیار کرنا بھی دل سے نہ تھا ضرورت تھی
جسے کرید کے دیکھا وہی ادھورا تھا
اسی لیے مجھے تنہائیوں کی عادت تھی
میں اس جہاں کا نہیں تھا اسی لیے شاید
مری حیات مسلسل مجھے اذیّت تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






