جو خوشامد کیا نہیں کرتے

Poet: Akram Saqib By: Akram Saqib, sahiwal

جو خوشامد کیا نہیں کرتے
جھولیاں وہ بھرا نہیں کرتے

ان کو ٹھیکہ کبھی نہیں ملتا
جو کمیشن دیا نہیں کرتے

ترقی عورت سے جڑ گئی اب تو
ایسے افسر بنا نہیں کرتے

لیتے ڈالر ہیں بدلے بندوں کے
کرنسی لوکل لیا نہیں کرتے

لوٹ کر ملک دونوں ہاتھوں سے
ملک میں پھر رہا نہیں کرتے
 

Rate it:
Views: 748
07 Jun, 2010
More Political Poetry