جو درمیان رہے مرحلے سیاست کے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہوئے ہوئے نہ ہوئے، کونسی محبت کے
جو کام ہر کسی حالت میں ہوامامت کے
جچے ہیں اُن کی نگہ میں تو آئنے تُو بھی
اُٹھا یہ عکس کہ ہم صاحب ِ کرامت کے
یقین کیوں نہیں قربت کا آپ کے ہوتا
کہ آپ آپ نہیں ہو، مری محبت کے
نہ ابتدا میں تھی مُشکل، نہ انتہا میں ہوئی
جو درمیان رہے مرحلے سیاست کے
یہ کیا ہوا ہے کہ جزبات تھم گئے اک دم
ذرا سی دیر جو رہتا ہے وہ سماعت کے
جواب اُن کو پتہ تھے ، سو چُپ رہے ہم بھی
اُنہیں سوال ہی کرنے تھے، پھر ندامت کے
انا کے خول سے وشمہ نکل بھی آؤ کہیں
ہمیں فراق نے مارا ہماری فطرت کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






