جو دن چڑھے تو تیرے وصل کی دُعا کرنا

Poet: MOHSIN By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

تمام عمر وہی قصّئہ سفر کہنا
کہ آ سکا نہ ہمیں اپنے گھر کو گھر کہنا

جو دن چڑھے تو تیرے وصل کی دُعا کرنا
جو رات ہو تو دُعا ہی کو بے اثر کہنا

یہ کہہ کے ڈوب گیا آج آخری سورج
کہ ہو سکے تو اسی شب کو اب سحر کہنا

میں اب سکوں سے رہوں گا کہ آ گیا ہے مجھے
کمالِ بے ہُنری کو بھی اِک ہُنر کہنا

وہ شخص مجھ سے بہت بدگماں سا رہتا ہے
یہ بات اُس سے کہو بھی تو سوچ کر کہنا

کبھی وہ چاند جو پوچھے کہ شہر کیسا ہے؟
بجھے بجھے ہُوئے لگتے ہیں بام و دَر کہنا

ہمارے بعد عزیزو ہمارا افسانہ
کبھی جو یاد بھی آئے تو مختصر کہنا

وہ ایک میں کہ میرا شہر بھر کو اپنے سوا
تیری وفا کے تقاضوں سے بے خبر کہنا

وہ ایک تُو کہ تیرا ہر کسی کو میرے بغیر
معاملاتِ محبت میں معتبر کہنا

وفا کی طرز ہے" محسن "کہ مصلحت کیا ہے؟
یہ تیرا دُشمنِ جاں کو بھی چارہ گر کہنا

Rate it:
Views: 825
23 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL