جو دن چڑھے تو تیرے وصل کی دُعا کرنا
Poet: MOHSIN By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتمام عمر وہی قصّئہ سفر کہنا
کہ آ سکا نہ ہمیں اپنے گھر کو گھر کہنا
جو دن چڑھے تو تیرے وصل کی دُعا کرنا
جو رات ہو تو دُعا ہی کو بے اثر کہنا
یہ کہہ کے ڈوب گیا آج آخری سورج
کہ ہو سکے تو اسی شب کو اب سحر کہنا
میں اب سکوں سے رہوں گا کہ آ گیا ہے مجھے
کمالِ بے ہُنری کو بھی اِک ہُنر کہنا
وہ شخص مجھ سے بہت بدگماں سا رہتا ہے
یہ بات اُس سے کہو بھی تو سوچ کر کہنا
کبھی وہ چاند جو پوچھے کہ شہر کیسا ہے؟
بجھے بجھے ہُوئے لگتے ہیں بام و دَر کہنا
ہمارے بعد عزیزو ہمارا افسانہ
کبھی جو یاد بھی آئے تو مختصر کہنا
وہ ایک میں کہ میرا شہر بھر کو اپنے سوا
تیری وفا کے تقاضوں سے بے خبر کہنا
وہ ایک تُو کہ تیرا ہر کسی کو میرے بغیر
معاملاتِ محبت میں معتبر کہنا
وفا کی طرز ہے" محسن "کہ مصلحت کیا ہے؟
یہ تیرا دُشمنِ جاں کو بھی چارہ گر کہنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






