جو دور سے آتا ہے نظر دشت و بیاباں
Poet: Muhammad Usman Akhter By: محمّد عثمان اختر, Rawalpindiجو دور سے آتا ہے نظر دشت و بیاباں
وہ نزد سے دیکھو تو ہے خوابوں کا گلستان
اک سمت ہے پھیلی ہوئی کوہسار کی تصویر
اک اور ہے بکھری ہوئی سڑکوں کی کہکشاں
چشمے کہیں چلتے ہیں پہاڑوں کی جبیں پہ
باغات کہیں سبز کشادہ و فراواں
قدرت نے کہیں خوب تراشا ہے شہر کو
انسان نے کہیں بخشا اسے حسن بہشتاں
دامن میں کس کوہ کے تفریح کے خزانے
روشن کوئی وادی بنی وادئ چراغاں
ہے علم سے معمور معطر فضا اسکی
ہر کوچہ ہے تعلیم کی آواز سے شاداں
صبحیں کہیں خاموش ہیں شامیں بھی کہیں چپ
" دوں نام اگر اس کو تو ہے"شہر خموشاں
ہے مسجد فیصل کہ جسے دیکھ کے سوچیں
کس رتبۂ فن پہ ہے زر دست مسلماں
کس حسن رطوبت سے نگاہوں کو ہے تسکیں
جس سمت بھی دیکھو ہے نظارہ ہاے خوباں
مشرق کے کہیں رنگ ابھرتے نظر آیئں
انداز کہیں مغربی ہوتے ہیں نمایاں
ہر پہلو نیا اسکا ہر انداز الگ ہے
دیکھوں تو فقط شہر ہے سوچوں توہوں حیراں
تو حسن وطن بھی ہے اخوت کی بنا بھی
الله تری خاک کورکھے سدا فرحاں !
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






