جو راس آ نہ سکے اس خوشی کی حسرت کیوں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمحال ہو تو بھلا زندگی کی حسرت کیوں
جو راس آ نہ سکے اس خوشی کی حسرت کیوں
بھلا سکوں گا نہ غم مے کدے میں بھی جا کر
تو سوچتا ہوں کہ پھر بے خودی کی حسرت کیوں
یہ پھول ڈالی سے ٹوٹا تھا آج وقت سحر
ہوئی ہے شام تو اب تازگی کی حسرت کیوں
ہوئے ہیں عشق میں برباد کتنے ہی عاشق
یہ جانتے بھی ہوئی عاشقی کی حسرت کیوں
وہ بدگماں کہیں نالاں نہ مجھ سے ہو جائے
ہے اس سے آج نئی دل لگی کی حسرت کیوں
اندھیرے جن کے ہیں ذہنوں میں خاک دیکھیں گے
کریں تو ان کے لیے روشنی کی حسرت کیوں
رہے جو تیرا عدو تیرا پیار پا کر بھی
تو ایسے شخص سے ہو دوستی کی حسرت کیوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






