جو سرور تھا جو سکون تھا کبھی پیار میں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiجو سرور تھا جو سکون تھا کبھی پیار میں
وہ نہ مل سکا کہیں چین میں نہ قرار میں
یونہی زندگی نہ پھنسی دکھوں کے مدار میں
کبھی چار دن تھے گزارے کوچہء یار میں
میں ازل سے مٹی تھا مٹی کے ہوں مدار میں
مجھے یوں بھی ملتا ہے چین گرد و غبار میں
میری عمر گزری جو ہجر میں غم و درد میں
مجھے عار کیسے ہو بعد مرگ مزار میں
تبھی مبتلا ہوں میں رتجگوں کے عذاب میں
کئ دن گزارے ہیں الفتوں کی بہار میں
جسے روز آ کے ملے خدا کوہ طور پر
کرے کیوں بھلا وہ عبادتیں کسی غار میں
میرے قاتلوں کا خطا گیا جو ہر ایک وار
کسی پاک ہستی کی ہوں دعا کے حصار میں
مجھے پیار مل نہ سکا کبھی مجھے غم نہیں
مجھے فخر ہے کہ ہوں غم زدوں کے شمار میں
وہ جو باقرؔ ایسی ہی چھوڑ کر مجھے چل دیا
یہ بتا تو دیتا کمی تھی کیا مرے پیار میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






