جو شام و سحر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, اسلام آبادجو شام و سحر وفا کے نگر میں رہتا ہے
وہ میرا پیار ہے قلب و جگر میں رہتا ہے
وہ ایک شخص جو مجھ سے ملا نہیں برسوں
خدا گواہ ہے میری نظر میں رہتا ہے
وہ جس کی ایک ہی خواہش پہ زندگی دے دی
اسی کا رنگ مری چشمِ تر میں رہتا ہے
جو میرے اشکوں کے دریا سے آشنا ہی نہیں
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
وہ میری سوچ کے آنگن کو چھاؤں دے کیسے
غمِ حیات کا سایہ شجر میں رہتا ہے
میں کیسے چاند کو اپنا بناؤں گی وشمہ
مرے نصیب کا تارا سفر میں رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






