جو شہرِ دل میں یہ فِتنہ فساد باقی ہے
Poet: صاحبزادہ محمد شاہ میر مغل By: Shahmeer Mughal, lahoreجو شہرِ دل میں یہ فِتنہ فساد باقی ہے
یُوں لگ رہا ہے تری کوئی یاد باقی ہے
میں شاعروں میں سراہا گیا ہوں خوب مگر
تری طرف سے جو ملنی ہے داد باقی ہے
کہ شہرِ سخن میں آجاو تمہیں سنبھالنے کو
سخن وروں کی صفوں میں کُشاد باقی ہے
میں تیرے بعد ابھی تک اکیلا رہتا ہوں
خیال و وہم میں اب انفراد باقی ہے
ترے اُدھار کا کھاتہ تو بند پڑا ہے مگر
شہر کہ لوگوں پہ ترا اعتماد باقی ہے
وہ آنے والے ہیں بیٹھو ابھی تو محفل میں
دلوں کو تھام لو تقسیمِ اَسناد باقی ہے
طرح طرح کے سوالوں سے شیخ ہیں برہم
یہاں تو لوگوں میں اب بھی تضاد باقی ہے
جسم کے سارے ہی اعضاء پہ تیرا قبضہ ہے
فقط جسم میں مرے قلبِ شاد باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






