جو عشق میں دنیا سےماورا ہو جاتا ہے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mipuri, birminghamجوعشق میں دنیاسےماورا ہوجاتا ہے
پھراس کے لیےہر درد دعا ہو جاتا ہے
کسی سے سچاعشق کرنےوالاانسان
محبوب کی ہستی میں فناہو جاتا ہے
ایک بار جو بھی جام عشق پی لیتاہے
وہ بندہ پیارومحبت کا دیوتا ہو جاتا ہے
عاشق کو نہ دنیاکا خوف نہ ڈرزمانےکا
وہ انسان کچھ اتنا قریب خدا ہو جاتاہے
عشق حقیقی نئی زندگی بخشتاہےاصغر
کوکہتا ہےعشق میں عاشق تباہ ہوجاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








