جو لب پر نہ آئے اشاروں سے کہہ دو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبہاروں سے کہہ دو نظاروں سے کہہ دو
میری داستاں چاند تاروں سے کہہ دو
تڑپنا بھی سیکھو کس کے ہجر میں
سمندر کے بے چیں کناروں سے کہہ دو
کبھی آئے گا لوٹ کر بانکپن وہ
لٹے شہر کی سب دیواروں سے کہہ دو
ہمیں اپنی ہمت پہ جی لینے دو اب
جہاں بھر کے رنگیں سہاروں سے کہہ دو
ابھی دو گھڑی سانس لے لوں چمن میں
میرے منتظر ریگزاروں سے کہہ دو
مجھے میرے لفظوں نے بتلایا ساقی
جو لب پر نہ آئے اشاروں سے کہہ دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






