جو مشکلیں خود ہی ٹال دیتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiجو مشکلیں خود ہی ٹال دیتا ہے
وہ درد بھی بےمثال دیتا ہے
میں خوش ہوں مالک کی سب عطاؤں پر
وہ کیسے کیسے کمال دیتا ہے
عطائیں کرنے پہ وہ جو آ جاۓ
تو دولتیں لازوال دیتا ہے
ہمارے جیسے فقیر لوگوں کو
وہ شاعری باکمال دیتا ہے
غرور ان میں کہاں سے آتا ہے
وہ جن کو حُسن و جمال دیتا ہے
دلیر ایسا ہے کون دنیا میں
جو اپنے دشمن کو ڈھال دیتا ہے
وہ حُسنِ یوسف جو سامنے آۓ
تو سب کو الجھن میں ڈال دیتا ہے
ستمگری اس کی دیکھو تو باقرؔ
وہ پیار لے کر ملال دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






