جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے

Poet: محشر آفریدی By: عابد, Islamabad

جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے
یہ تم نے کیسا یقیں دلایا مغالطہ ختم ہو گیا ہے

زبان ہونٹوں پہ جا کے پھیکی ہی لوٹ آتی ہے کچھ دنوں سے
نمک نہیں ہے ترے لبوں میں یا ذائقہ ختم ہو گیا ہے

گمان گاؤں سے میں چلا تھا یقین کی منزلوں کی جانب
مگر توہم کے جنگلوں میں ہی راستہ ختم ہو گیا ہے

وہ گفتگوؤں کے نرم چشمہ کہیں فزا میں ہی جم گئے ہیں
وہ سارے میسج وہ شاعری کا تبادلہ ختم ہو گیا ہے

کل ایک صدمہ پڑا تھا ہم پر کے جس نے دل کو ہلا دیا تھا
چلو کے سینے کا جائزہ لیں کہ زلزلہ ختم ہو گیا ہے

مرے تصور میں اتنی وسعت نہیں کے تیرا بدن سمائے
میں تجھ کو سوچوں تو ایسا لگتا ہے حافظہ ختم ہو گیا ہے

میں تجھ کو پا کر ہی مطمئن ہوں اب اور کوئی طلب نہیں ہے
جو آج تک تھا نصیب سے وہ مطالبہ ختم ہو گیا ہے

Rate it:
Views: 1115
18 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL