جو چہرہ نظر آیا محبوب نظر آیا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillعالم میں ہمیں کوئی نہ معیوب نظر آیا
جو چہرہ نظر آیا محبوب نظر آیا
ہجر و وصال کے سب جذبے امڈ پڑے ہیں
یوسف کو قافلے میں یعقوب نظر آیا
تیرے بغیر گلشن میں لو کا راج پھیلا
جس پھول کو بھی دیکھا معتوب نظر آیا
دل سامنے تمہارے تو بانکپن بھرا تھا
تنہائی میں جو دھڑکا مجذوب نظر آیا
آنسو بہا کے ڈھانپا میری خاشاک تن کو
شمع کو میرا جلنا کیا خوب نظر آیا
سچ کہہ کے آئینے میں جو عکس اپنا دیکھا
منصور سر زنداں مصلوب نظر آیا
وہ راستہ کہ جس پر تم دو گھڑی رکے تھے
ہر آرزو کا اب بھی مطلوب نظر آیا
اس لمحے تیرے ہاتھوں کی ٹوٹ کے یاد آئی
جب بھی کوئی پرندہ مضروب نظر آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






