جو چہرہ نظر آیا محبوب نظر آیا۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillعالم میں کوئی بھی نہ معیوب نظر آیا
جو چہرہ نظر آیا محبوب نظر آیا
ہجرو وصل کے سارے جذبے امڈ پڑے ہیں
یوسف کو قافلے میں یعقوب نظر آیا
تیرے بغیر گلشن میں لو کا راج پھیلا
جس پھول کو بھی دیکھا معتوب نظر آیا
دل سامنے تمہارے جو بانکپن بھرا تھا
تنہائی میں وہ اکثر مجذوب نظر آیا
آنسو بہا کے ڈھانپا خاشاک تن کو فورا
شمع کو میرا جلنا کیا خوب نظر آیا
سچ بول کے جو دیکھا درپن میں اپنا پیکر
منصور سر زنداں مصلوب نظر آیا
وہ راستہ کہ جس پر تم دو گھڑی رکے تھے
ہر آرزو کا اب بھی مطلوب نظر آیا
جس میں بھی ذرا دیکھی ہے زندگی کی رونق
وہ لمحہ صرف تم سے منسوب نظر آیا
اس لمحے تیری آنکھوں کی ٹوٹ کے یاد آئی
جب بھی کوئی پرندہ مضروب نظر آیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







