جو ہم سے گذر گیا اس کی راہ گذر کے کیا کریں گے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجو ہم سے گذر گیا اس کی راہ گذر کے کیا کریں گے
ایسے ہی موت کو بہانہ مل جائے تو آہ بھرکے کیا کریں گے
وہ اپنی اداؤں میں بے رخی کی قلت ہی نہیں چھوڑتا
پھر چنگل کی شوخیوں سے یوں ڈَرکے کیا کریں گے
میری بے فساد دھڑکنوں کو کوئی تھپکی جو لگا گیا
تو اٹھ چکا عشق کا علم اب چھپ کے کیا کریں گے
بڑی مفارقت سے شاید کوئی لوٹنے والا ہی نہیں
ہر تعیش کو بجھا دیا دریچے پہ بھڑکے کیا کریں گے
جہاں تختہ گل سے کانٹے ہی چننے پڑ گئے مجھے
تھا اگر مقدر کا فیصلہ تو مکر کے کیا کریں گے
اس ریزہ اشکوں میں تیرے غم کی شراکت بھی ہے
یہی میرے زندگی سنتوش اب رؤ کے کیا کریں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






