جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میں

Poet: انور محمود خالد By: Sad Shayari, jaccobabad

جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میں
پرائی آگ میں کیوں انگلیاں جلاؤں میں

وہ اب کے جائے تو پھر لوٹ کر نہ آئے کبھی
بھلائے ایسے کہ پھر یاد بھی نہ آؤں میں

سکھی رہے وہ سدا اپنے گھر کے آنگن میں
اس اک دعا کے لئے ہاتھ اب اٹھاؤں میں

نئی رتوں کے جھمیلے ہوں اس کا زاد سفر
شکست عرض تمنا پہ گنگناؤں میں

اٹھائے ناز وہی جس کی وہ امانت ہے
نہ روٹھے مجھ سے نہ جا کر اسے مناؤں میں

وہ روتی آنکھوں کرے چاک میری تصویریں
اک ایک کر کے سبھی اس کے خط جلاؤں میں

اٹھا کے دیکھے وہ کھڑکی کے ریشمی پردے
تو چاہنے پہ بھی اس کو نظر نہ آؤں میں

ہوا کے ہاتھ بھی پیغام وہ اگر بھیجے
خیال بن کے بھی اس کے نگر نہ جاؤں میں

وہ حادثات کی حدت سے جب پگھلنے لگے
تو چاند بن کے خنک دل میں جگمگاؤں میں

Rate it:
Views: 523
30 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL