جو ہے رائیگاں تیری جستجو ‘ یہ تیری نظر کی خطا نہیں

Poet: Shakeel Badayuni By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

جو ہے رائیگاں تیری جستجو ‘ یہ تیری نظر کی خطا نہیں
میں گرد راہ مجاز ہوں‘ جسے خود ہی اپنا پتہ نہیں

یہ نہیں کی باب حریم سے جو طلب کیا وہ ملا نہیں
مگر اتنی بات ضرور ہے کہ اثر بقدر دعا نہیں

میں فریب مرگ سے دور ہوں کہ تیرا ہی پرتو نور ہوں
میری عمر عمرِ دوام ہے‘ مجھے اعتقاد فنا نہیں

قسم ارتکاب گناہ کی‘ قسم التفات نگاہ کی
وہ نہ مرتبہ کوئی پا سکا ‘ جو تیری نظر سے گرا نہیں

وہی ایک سجدہ ہے کارگر ‘ جو ہو فکر معاش سے ماورا
وہ ہزار سجدے فضول ہیں جو رہینِ لغزش پا نہیں

میں شکیلؔ دل کا ہوں ترجماں کہ محبتوں کا ہوں رازداں
مجھے فخر ہے میری شاعری‘ ،میری زندگی سے جدا نہیں

Rate it:
Views: 1555
13 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL