جواب رانگ نمبر
Poet: Shazia Hafeez By: Shazia Hafeez, Attockاک دن آیا رانگ نمبر، کر لی میں نے بات
آواز میں تھا کچھ ایسا جادو، دل ہو گیا شاد
باتیں اسکی تھیں بہت ہی پیاری پیاری
مر مٹی میں اس پہ، ساری کی ساری
اسکی باتوں میں اکثر کھو جانے لگی
اپنے خیالوں میں اس کو بسانے لگی
اک گمنام سا چہرہ دل کو لبھانے لگا
میرے سپنوں کو وہ رنگیں بنانے لگا
دل و جان سے میں اس کو چاہنے لگی
اس کے سپنوں میں بھی چھانے لگی
بات ہی بات میں بات کچھ ایسی ہو گئی
وہ میرا ہو گیا، میں بھی اس کی ہو گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






