جواب ِ غزل

Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA

انشاء جی رُکو کوچ نہ کرو یوں شہر کو چھوڑ کے جانا کیا
تم دل کا نگر بسا کے دیکھو یوں دشت میں گھر بسانا کیا

جب رات ڈھلے تم گھر لوٹو اور دستک کو تمہارا ہاتھ بڑھے
اور پائل کی جھنکار گونج اٹھے تو سجنی سے بھلا پھر گھبرانا کیا

دل کے شہر ِخموشاں میں حسرتوں کا مزار بھی ہوتا ہے
واں امید کا دیا روشن کرو یوں چُپ چُپ نیر بہانا کیا

گر حسن کا موتی سچا ہو جسے دیکھ سکو تم پر چُھو نہ سکو
وہ چاند کی مانند دور ہے تم سے پھر اُس سے دل لگانا کیا

دنیا کب جینے دیتی ہے رعنا یہ عاشقوں کو رُسوا کرتی ہے
دیوانوں کی سی نہ بات کرو بنواؤ گے اپنا افسانہ کیا؟

Rate it:
Views: 971
25 Oct, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL