جگنو بچے
Poet: ابنِ منیب By: ابنِ مُنیب, سویڈنیہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے خورشید بنیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بے درد اندھیرے مِٹ جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
ظالم نہ رہے ظلمت نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
ہر جان فروزاں ہو جائے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
رہبر نہ رہے رہزن نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
یاں رزق میں سب کا حصہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
سائل نہ رہے صاحب نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
کھلیان برابر بٹ جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
آقا نہ رہے بندہ نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
کمزور کی خدمت پہلے ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
عہدہ نہ رہے رتبہ نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
سب علم کے طالب ہو جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
عالم نہ رہے جاہل نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
قانون محافظ ہو سب کا
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بیکَس نہ رہے بے بس نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
تحقیق ہمارا شیوہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
یاں صید نہ ہو صیاد نہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
احساس کے قیدی ہوں ہم سب
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
آزاد جو ہو آزاد نہ ہو
ہاں ممکن ہے اے اہلِ چمن
یہ سن رکھّو اور جان رکھو
ان چھوٹی چھوٹی شمعوں سے
غافل نہ رہو غافل نہ رہو
یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے خورشید بنیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بے درد اندھیرے مِٹ جائیں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






