جگنو لمحے
Poet: عرشیہ ھاشمی By: arshiya hashmi, islamabadیہ چند جگنو سے خواب لمحے
تمھارے ہاتھوں میں آج بند ہیں
ذرا ہتھیلی کو کھول دیکھو
یہ اڑ چلیں گے
یہ چند جگنو سے خواب لمحے
تمھارے رب نے عطا کیئے ہیں
تمھیں جو پانا ہے آج پا لو
جو کرنا چاہو ابھی سے کر لو
یہ جگنو لمحے پکارتے ہیں
کوئی بھی رت لوٹ کر نہ آئی
کبھی کوئی سال کیا ہے ٹھر ؟÷
ی بیتا لمحہ کبھی ہے لوٹ ؟؟
یہ زندگانی
ہے اک پہر یا پہر کا حصہ
وقت کی اغوش میں
تمھاری نصرت کے سیپ موتی ،،،
مچل رہے ہیں
یہ جگنو لمحے پکارتے ہیں
کہ اب تو سوچو ١
یہ جگنو لمحے رہین گے خالی ؟؟
اور تم
وہ بد نصیب ہو گے
کہ جس نے سونے کے دام دے کر
خریدی مٹی
جو اڑ چلے گی
More Islamic Poetry






