جھریوں بھرے ھاتھوں سے حنا کیسے ملے
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, AL-KHOBARبے رنگ سی بستی میں صبا کیسے ملے
اجڑے ھوئے لوگوں میں وفاء کیسے ملے
وہ دشمن ھوا میرا مگر پاس رہا تھا
سنگدل سے دوعاؤں کی صدا کیسے ملے
رسوائیوں کے سبھی رنگ ہیں مجھ میں سمائے
یوں سرکتے ھوئے آنچل سے حیاء کیسے ملے
پھر شام و سحر وقت کی یوں قید میں گزرے
بند دروازوں سے آزادی کی ھوا کیسے ملے
یوں عمر کی دھلیز پہ تنہا ہی رھے ھم
اب جھریوں بھرے ہاتھوں پہ حنا کیسے ملے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






